Youm E Difa Article By Mariam Quraishi

یوم دفاع
مریم قریشی

یوم دفاع ایک عہد ساز اور بہترین کامیا بیوں اور قر با نیوں کو دہرا نے کا دن ہے،اس دن کو ہم بھر طر یقے سے منا تے ہیں ۔ اس کی ایک خا ص وجہ ایک تو یہ ہے کہ ہمارے مجا ہدوں اور شہیدوں نے اس دن بے شمار قر با نیاں دے کر ایک تا ریخ رقم کی اور دشمن کے دلوں پر دہشت طاری کر دی کہ ہمارے ارداے پہلےسے بھی زیادہ مضبو ط ہیں،اس حوالے سے ایم ایم عالم کا نام قابل ذکر ہے ، ایم ایم عالم نے ایک منٹ میں دشمن کے چھ طیارے مار گرائے اور ایک تاریخ رقم کر دی ،اور دوسری وجہ یہ ہے کہ دنیا یہ یاد رکھے کہ ہم ہر گزاحسان فرا موش قوم نہیں ہیں اپنے محسنوں کو یاد رکھتے ہیں اور ہر وقت ملک کے دفا ع کے لیے تیار ہیں ۔
پاکستانی قوم،اپنے ہیروز سے بہت محبت کر تی ہے اور ہر وقت اپنے ملک کے لیے قربا نی دینے کو تیار ہے۔اس دفعہ آئ ایس پی آر نے ایک منفرد کمپین لا نچ کی ہے جس کو “ہمیں پیار ہے پاکستان سے “کا نام دیا گیا ہے۔ اس کمپین کے تحت ملک بھر میں مختلف مقامات کو شہیدا کی تصاویر سے سجا یا گیا ہے،جس میں شاپنگ ما لز ، ریلوے اسٹیشن اور پارکس سر فہرست ہیں، شہروں میں مختلف جگہ بڑے بڑے پینا فلکس آویزاں کی گئے ہیں جن پر شہدا کی تصویرں اور تحسین بھر ےکلمات درج ہیں میڈیا اور فوج کے افسران شہدا کے گھروں میں جا کر ان کی قر با نیوں کی یاد تازہ کر رہے ہیں ۔ ایک امن پسند اور منفرد قسم کی یہ کمپین ملک بھر میں سب کو پسند آ رہی ہے اور سب لوگ پر جوش طر یقے سے ساری تقریبات دیکھ رہے ہیں ۔
سلام ان پر جو وطن کے لیے قربان ہو گئے۔۔۔۔
سلام ان پر جہنوں نے اپنے سے زیادہ دوسروں کی جا نوں کی پروا کی۔۔۔۔۔
سلام ان پر جو دھرتی کا مان ہیں۔۔۔۔۔
سلام ان پر جو پاکستان کا تاج ہیں۔۔۔۔۔
سلام ان پر جو روشن ستاروں کی طرح ہمیشہ اچھے الفاظ میں یاد کیے جا ئیں گے۔۔۔۔
سلام ہے ان پر جو ہماری حفا ظت کر تے ہوئے اپنی جان وار گئے۔۔۔۔
سلام ہے ان پر جہنوں نے اپنے ارمان وار کر ہمارے ارمانوں کو پورا کیا۔۔۔۔
سلام ان پر جو اپنے خوا بوں کو ادھورا چھوڑ گئے کہ ہمارے خوا بوں کی تکمیل کر گئے۔۔۔۔
اس سلسلے میں میجر عزیز بھٹی اور میجر شبیر شہید کا نام بھی قابل ذکر ہے ، الحمد اللہ ملک کے لیے اتنے جوا نوں نے قر با نیاں دی ہیں کہ ایک مختصر سی تحریر میں سب کا نام لکھنا ممکن نہیں ہے ، مگر ان سب کی یاد ہمارے دلوں میں مو جود ہے اور رہے گی۔
1965 ‘1971 اور کارگل کی جنگ کے تمام درخشاں ستارے ہمارا فخر ہیں
تم ہی اسے اے مجا ہدو !جہاں کا ثبات ہے۔۔۔
شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے۔۔۔
یوم دفا ع پر ہمیں یہ عہد کر نا ہے کہ ہم نے صرف زبا نی ہی ملک سے محبت نہیں دکھا نی بلکہ عملی طور پر ملک کے لیے کام بھی کر نا ہے ،اس دن کا مقصد خاص طور پر شجا عت کے بہترین کار نامے انجام دینے والے شہدا کی یاد تازہ کر نا ہے کہ یہ مٹی ان کی وارث ہے اور وہ گمنام نہیں ہیں۔
پیار ہے ہمیں پیار ہے پا کستان سے دل جان سے یہ فقرہ تمام قوم کے جذ بات کا مظہر ہے۔
زندہ قومیں اپنے ہیروز کو ہمیشہ یاد رکھتی ہیں ،اس دن مزار قائد اور مزار اقبال پر گارڈز کی تبدیلی کی پر وقا ر تقریب ہو تی ہے ۔
اس دن پر شہدا کے ساتھ ساتھ غازیوں کی قر با نیوں کو بھی فرا موش نہیں کر نا چا ہیے انہوں نے بھی بے شمارجرات کا مظاہرہ کیا اور دشمن کو ہرا کر زندگی کی جنگ جیت گئے۔شہیدوں اور غا زیوں نے جرات کے ایسے ایسے کارنامے سر انجام دئیے جو کہ روشن حر فوں سے لکھے جا نے کے قا بل ہیں۔جب جذ بہ ایما نی غالب آتا ہے تو انسان ایسے ایسے کارنا مے سر انجام دے دیتا ہے کہ عقل دنگ رہ جا تی ہے اور زبان کنگ اور دل وطن کی محبت سے سر شار ہوجا تا ہے ۔یہ ایک طرح سے دشمنوں کو وارننگ دینے کا دن ہے کہ دیکھو ۔۔۔تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو ہمیں یاد ہے ہاں یاد ہے۔۔۔۔
قر بانی کی اس دوڑ میں آرمی ، پاک فضا ئیہ اور پاک نیوی اور ہمارے وہ گمنام سپا ہی جو ملک کے لیے جا سوسی کر تے ہیں اور دن ورات کی پروا کیے بغیر اپنی جانے رہن رکھوا دیتے ہیں اُن سب کی قر با نیاں ایک جیسی ہیں اور قابل فخرہیں۔
ہمارے جوان جن کی ہیبت سے پہاڑ کا نپتے ہیں اور دریا اپنی روانی کو کم سمجھتے ہیں ہم ان کو سلام پیش کر تے ہیں اور یہ سلسلہ انشا اللہ رہتی دنیا تک جاری و ساری رہے گا
ہمارے شہدا ۔۔۔۔۔ ہمارا فخر نعرہ تکبیر اللہ اکبر،۔

مریم قریشی

یوم دفاع ایک عہد ساز اور بہترین کامیا بیوں اور قر با نیوں کو دہرا نے کا دن ہے،اس دن کو ہم بھر طر یقے سے منا تے ہیں ۔ اس کی ایک خا ص وجہ ایک تو یہ ہے کہ ہمارے مجا ہدوں اور شہیدوں نے اس دن بے شمار قر با نیاں دے کر ایک تا ریخ رقم کی اور دشمن کے دلوں پر دہشت طاری کر دی کہ ہمارے ارداے پہلےسے بھی زیادہ مضبو ط ہیں،اس حوالے سے ایم ایم عالم کا نام قابل ذکر ہے ، ایم ایم عالم نے ایک منٹ میں دشمن کے چھ طیارے مار گرائے اور ایک تاریخ رقم کر دی ،اور دوسری وجہ یہ ہے کہ دنیا یہ یاد رکھے کہ ہم ہر گزاحسان فرا موش قوم نہیں ہیں اپنے محسنوں کو یاد رکھتے ہیں اور ہر وقت ملک کے دفا ع کے لیے تیار ہیں ۔
پاکستانی قوم،اپنے ہیروز سے بہت محبت کر تی ہے اور ہر وقت اپنے ملک کے لیے قربا نی دینے کو تیار ہے۔اس دفعہ آئ ایس پی آر نے ایک منفرد کمپین لا نچ کی ہے جس کو “ہمیں پیار ہے پاکستان سے “کا نام دیا گیا ہے۔ اس کمپین کے تحت ملک بھر میں مختلف مقامات کو شہیدا کی تصاویر سے سجا یا گیا ہے،جس میں شاپنگ ما لز ، ریلوے اسٹیشن اور پارکس سر فہرست ہیں، شہروں میں مختلف جگہ بڑے بڑے پینا فلکس آویزاں کی گئے ہیں جن پر شہدا کی تصویرں اور تحسین بھر ےکلمات درج ہیں میڈیا اور فوج کے افسران شہدا کے گھروں میں جا کر ان کی قر با نیوں کی یاد تازہ کر رہے ہیں ۔ ایک امن پسند اور منفرد قسم کی یہ کمپین ملک بھر میں سب کو پسند آ رہی ہے اور سب لوگ پر جوش طر یقے سے ساری تقریبات دیکھ رہے ہیں ۔
سلام ان پر جو وطن کے لیے قربان ہو گئے۔۔۔۔
سلام ان پر جہنوں نے اپنے سے زیادہ دوسروں کی جا نوں کی پروا کی۔۔۔۔۔
سلام ان پر جو دھرتی کا مان ہیں۔۔۔۔۔
سلام ان پر جو پاکستان کا تاج ہیں۔۔۔۔۔
سلام ان پر جو روشن ستاروں کی طرح ہمیشہ اچھے الفاظ میں یاد کیے جا ئیں گے۔۔۔۔
سلام ہے ان پر جو ہماری حفا ظت کر تے ہوئے اپنی جان وار گئے۔۔۔۔
سلام ہے ان پر جہنوں نے اپنے ارمان وار کر ہمارے ارمانوں کو پورا کیا۔۔۔۔
سلام ان پر جو اپنے خوا بوں کو ادھورا چھوڑ گئے کہ ہمارے خوا بوں کی تکمیل کر گئے۔۔۔۔
اس سلسلے میں میجر عزیز بھٹی اور میجر شبیر شہید کا نام بھی قابل ذکر ہے ، الحمد اللہ ملک کے لیے اتنے جوا نوں نے قر با نیاں دی ہیں کہ ایک مختصر سی تحریر میں سب کا نام لکھنا ممکن نہیں ہے ، مگر ان سب کی یاد ہمارے دلوں میں مو جود ہے اور رہے گی۔
1965 ‘1971 اور کارگل کی جنگ کے تمام درخشاں ستارے ہمارا فخر ہیں
تم ہی اسے اے مجا ہدو !جہاں کا ثبات ہے۔۔۔
شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے۔۔۔
یوم دفا ع پر ہمیں یہ عہد کر نا ہے کہ ہم نے صرف زبا نی ہی ملک سے محبت نہیں دکھا نی بلکہ عملی طور پر ملک کے لیے کام بھی کر نا ہے ،اس دن کا مقصد خاص طور پر شجا عت کے بہترین کار نامے انجام دینے والے شہدا کی یاد تازہ کر نا ہے کہ یہ مٹی ان کی وارث ہے اور وہ گمنام نہیں ہیں۔
پیار ہے ہمیں پیار ہے پا کستان سے دل جان سے یہ فقرہ تمام قوم کے جذ بات کا مظہر ہے۔
زندہ قومیں اپنے ہیروز کو ہمیشہ یاد رکھتی ہیں ،اس دن مزار قائد اور مزار اقبال پر گارڈز کی تبدیلی کی پر وقا ر تقریب ہو تی ہے ۔
اس دن پر شہدا کے ساتھ ساتھ غازیوں کی قر با نیوں کو بھی فرا موش نہیں کر نا چا ہیے انہوں نے بھی بے شمارجرات کا مظاہرہ کیا اور دشمن کو ہرا کر زندگی کی جنگ جیت گئے۔شہیدوں اور غا زیوں نے جرات کے ایسے ایسے کارنامے سر انجام دئیے جو کہ روشن حر فوں سے لکھے جا نے کے قا بل ہیں۔جب جذ بہ ایما نی غالب آتا ہے تو انسان ایسے ایسے کارنا مے سر انجام دے دیتا ہے کہ عقل دنگ رہ جا تی ہے اور زبان کنگ اور دل وطن کی محبت سے سر شار ہوجا تا ہے ۔یہ ایک طرح سے دشمنوں کو وارننگ دینے کا دن ہے کہ دیکھو ۔۔۔تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو ہمیں یاد ہے ہاں یاد ہے۔۔۔۔
قر بانی کی اس دوڑ میں آرمی ، پاک فضا ئیہ اور پاک نیوی اور ہمارے وہ گمنام سپا ہی جو ملک کے لیے جا سوسی کر تے ہیں اور دن ورات کی پروا کیے بغیر اپنی جانے رہن رکھوا دیتے ہیں اُن سب کی قر با نیاں ایک جیسی ہیں اور قابل فخرہیں۔
ہمارے جوان جن کی ہیبت سے پہاڑ کا نپتے ہیں اور دریا اپنی روانی کو کم سمجھتے ہیں ہم ان کو سلام پیش کر تے ہیں اور یہ سلسلہ انشا اللہ رہتی دنیا تک جاری و ساری رہے گا
ہمارے شہدا ۔۔۔۔۔ ہمارا فخر نعرہ تکبیر اللہ اکبر،۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*