Ramzan Ul Mubarak aur Roze Article by Roha Sadia

کالم

رمضان المبارک اور روزہ

روحا سعدیہ
 
 
یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے۔”رمضان المبارک ایسا تحفہ، ایسا مہینہ کہ جس میں اللّٰہ تعالیٰ ہمیں جہاں رحمتوں، برکتوں ، محبتوں سے نوازتا ہے وہی ہمیں اپنے گناہوں سے، غلط راستوں پر چلنے سے، روکتا ہے اور سیدھے راستے پر چلنے کی ہدایت کرتا ہے۔ “بے شک روزہ ڈھال ہے گناہوں سے بچنے کے لیے”
اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ “روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اسکا اجر دوں گا۔”
 
رمضان جس کا مطلب ہے کہ جل جانا، یعنی ہمارے گناہوں کا ختم ہو جانا، ہم جیسے جیسے اس ماہ کے ایک ایک دن میں خلوص نیت سے اللّٰہ تعالیٰ کے لیے ، اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت، برکت ، خشنودی کے لیے، آپنے گناہوں سے چھٹکارے کے لیے ، اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں ویسے ویسے ہمارے گناہ ختم ہونے لگتے ہیں اور رمضان المبارک کے آخری ایام تک ہم مکمل طور پر نہیں تو بہت حد تک اپنے گناہوں سے چھٹکارا حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔۔۔اور روزہ انھی عبادات میں سے ایک عبادت ہے۔
“تم پر ایک عظمت اور برکت والا مہینہ سایہ فگن ہو رہا ہے” اس مہینے کے روزے اللّٰہ تعالیٰ نے فرض کیے ہیں’ جو شخص اس مہینے میں اللّٰہ تعالیٰ کی رضا اور اس کا قرب حاصل کرنے کے لیے کوئئ غیر فرض عبادت ادا کرے گا تو اس کو دوسرے زمانے کے فرضوں کے برابر ثواب ملے گا۔”
 
ہم انسان بہت نا شکرے بن جاتے ہیں، کہ جب اللّٰہ تعالیٰ ہمیں توبہ کرنے کی ، گناہوں سے بچنے کی، مغفرت کی، آپنی نافرمانیوں سے توبہ کرنے کے لیے بلاتا ہے تو ہم خود سے یہ کہہ کر مطمئن ہو جاتے ہیں کہ ہم اتنے گنہگار کہاں سے ہوگئے۔ قید ہونے کے باوجود بھی ہمارے اندر کا شیطان، ہمیں گناہوں سے بچنے سے ، توبہ کرنے سے، اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے سے روکتا ہے،
لیکن جو انسان اللّٰہ تعالیٰ پر، آپنے آپ پر یقین رکھتا ہے وہ کبھی نقصان میں نہیں رہتا، وہ کبھی شیطان کو خود پر حاوی نہیں ہونے دیتا، اور یوں وہ اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک ترین بندوں میں شامل ہو جاتا ہے، “جو لوگ رمضان المبارک کے روزے ایمان اور احتساب کے ساتھ رکھیں ان کے گزشتہ سب گناہ معاف کر دئیے جائیں گے”
رسول اللہ ص نے فرمایا کہ آدمی کے ہر اچھے عمل کا ثواب دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھایا جاتا ہے مگر اللّٰہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ روزہ اس عام قانون سے مشتشنی ہے، وہ بندے کی طرف سے خاص میرے لئے ایک تحفہ ہے اور میں ہی اسکا اجر و ثواب دوں گا، میرا بندہ میری وجہ سے خواہش نفس اور کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے۔
رمضان المبارک کہنے کو ایک مہینہ ،تیس دن ہیں لیکن اللّٰہ تعالیٰ نے اس مبارک مہینے کو تین حصوں میں تقسیم کیا، پہلا حصہ یعنی پہلا عشرہ ، عشرہ رحمت
انسانی نفس کی پاکیزگی اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت کے متوجہ ہوئے بغیر ممکن نہیں، اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتوں، برکتوں اور رحمتوں سے نوازا ہے،۔ لیکن ہم اللّٰہ تعالیٰ کی ان بےشمار نعمتوں کی بہت کم قدر کرتے ہیں۔
کیا آپ نے کھبی سوچا کہ ہمارے دلوں کا سکون ہمارے لیے کتنی اہمیت رکھتا ہے، ہم دولت سے مالامال ہوں، محلوں میں زندگی بسر کر رہے ہوں، لیکن جب ہمارے دل مطمئن نہیں ہونگے تو اس دولت اور محلوں کو کیا کریں گے ہم، اور ہمارے دلوں کا سکون اللّٰہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں میں سے ایک بہترین نعمت ہے، یہ اللّٰہ تعالیٰ کی ہم پہ رحمت ہی تو ہے جسکا ہم صحیح سے شکر بھی ادا نہیں کرتے۔
دوسرا حصہ یعنی دوسرا عشرہ، ‘عشرہ مغفرت’
ہم کتنے بھی گنہگار ہوں لیکن اللّٰہ تعالیٰ لوگوں کے سامنے ہمیں معزز بناتا ہے، انسان خطا کا پتلا ہے یعنی غلطی کرنے والا، ہم جتنی بھی کوششیں کر لیں ہم سے کہیں نہ کہیں غلطی ہو ہی جاتی ہے، عشرہ مغفرت جس میں اللّٰہ تعالیٰ ہمیں موقع دیتے ہیں کہ ہم اپنے گناہوں سے توبہ کر لیں، اور اس راستے پر چلیں کہ جس پر ہمیں اللّٰہ تعالیٰ کی رضا مل سکے۔”روزہ صرف کھانے اور پینے سے رکنے کا نام نہیں ہے بلکہ جھوٹ، باطل اور بے ہودہ باتوں سے بچنے کا نام بھی ہے”
ہم روز مرہ زندگی میں کتنے لوگوں کو تکلیف پہنچاتے ہیں، کتنے لوگوں کا دل دکھاتے ہیں لیکن ہمیں اس کا احساس تک نہیں ہوتا اور اس کے باوجود اللّٰہ تعالیٰ ہمیں معزز بنائے ہوئے ہیں۔
تیسرا عشرہ،’ جہنم سے آزادی’
ہم انسان جہاں چھوٹے چھوٹے گناہ کرتے ہیں وہاں ہم سے بڑے بڑے گناہ بھی سرزد ہو جاتے ہیں، ” استغفار بہت پڑھا کرو اس سے مشکل ، آسان اور روزی میں برکت ہوتی ہے”
رمضان المبارک میں سب سے زیادہ اہمیت و فضیلت آخری دس دنوں کو حاصل ہے جسے ہمارے نبی اکرم ص نے جہنم سے آزادی کا عشرہ قرار دیا ہے،
اور پھر اسی آخری عشرے میں ہی طاق راتوں میں سے شب قدر ہے، وہ ایک رات جس کا تذکرہ اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا اور جیسے ہزار مہینوں سے بہتر قرار دیا،وہ رات جس میں حضرت جبرائیل علیہ امن و سلامتی کا پیغام لاتے ہیں اور جو اس رات سے محروم ہوا وہ یقیناً بڑا محروم ہے۔
عطار ہو، رومی ہو،رازی ہو، غزالی ہو
کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہ سحر گاہی
(علامہ اقبال)
کیا ہوا جو ہمیں گنتی کے چند دنوں میں روزہ رکھنا پڑتا ہے، کہنے کو ہم روزہ اللہ تعالیٰ کے لیے رکھتے ہیں لیکن اصل میں روزہ ہم اپنے فائدے کے لیے ہی تو رکھتے ہیں، ہم روزہ اسی لیے رکھتے ہیں کہ ہم گناہوں سے چھٹکارا حاصل کر سکیں، وہ گناہ جو دراصل ہمارے ہی کیے ہوئے ہوتے ہیں، ہمارے گناہوں کے باوجود بھی اللّٰہ تعالیٰ ہمیں روزے کا اجر و ثواب دیتے ہیں، ہمارے گناہوں کو دھو ڈالتا ہے،
جب اللّٰہ تعالیٰ ہمیں اتنا نوازتا ہے تو کیا ہم اللّٰہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے روزہ بھی نہیں رکھ سکتے۔
روزہ رکھ کر دن میں چند بار سورہء کوثر پڑھ لی جائے تو روزے کی حالت میں لگنے والی بھوک پیاس سے بچنے میں بہت مدد ملتی ہے۔اور اگر ہمارا دل مطمئن ہے تو کسی شیطان کے وسوسے ہمیں اللّٰہ تعالیٰ سے دور نہیں کر سکتے،
“روزہ دار کے لیے دو فرحتیں ہیں، ایک فرحت افطار کے وقت ملتی ہے اور دوسری فرحت آپنے رب سے ملاقات کے وقت نصیب ہو گی اور روزہ دار کے منہ کی بو اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ اور پسندیدہ ہے”
الحمدللہ

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*