Mausam E Garma Article By Ayesha Khan

موسمِ گرما
عائشہ احمد

موسم گرما آیا ہے
گرمی بھی ساتھ لایا ہے پھلوں کے بھی کیا ہیں کہنے؟؟ تربوز،خربوزہ،فالسہ ہے یہاں جیسے سنار کی دکان پہ ہوں گہنے
رنگ برنگے پھول کھلے ہیں خوبانی،آلو بخارا لاجواب ہے
پھلوں کی عجب بہار آئی ہے آڑو،سٹرابری اور لوکاٹ ہے
ٹھنڈا پانی اور مشروب سبزیوں کے ہیں کیا کہنے؟؟
ٹھنڈی ٹھار سردائی ہے۔ بینگن،بھنڈی ، اور توری
قلفی ،قلفہ اور فالودہ حلوہ کدو ،کریلے اور اروی
فریج میں پڑی رس ملائی ہے مزے کی ہے سب ہی لگتی
املی آلو بخارے کا شربت ہے ملتا سب نے ہے یہ شور مچایا
گنے کا رس بھی اور گولا گنڈا بھی ہے بکتا موسم گرما آیا،موسمِ گرما آیا
گرمی بھی ساتھ لایا ہے
اﷲ پاک کی نعمتیں
قدرت نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔اگر ہم ان کو شمار کرنا چاہیں تو ایسا ممکن ہی نہیں ہے۔اور اگر ہم ان نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہیں تو ہماری ساری زندگی بھی کم ہے۔ہماری ہر سانس بھی اس ذات باری تعالی کا شکر ادا کرے تو تب بھی ہم انے پاک پروردگار کے احسانات کا بدلہ نہیں چکا سکتے۔قرآن پاک میں سورہ رحمان میں بار بار اس بات کا ذکر کیا گیا ہے۔
“اور تم اپنے پروردگا کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاو گے”
بے شک ایسا ہی ہے۔اس پاک ذات کا ہمیں پید ا کرنا،عقل و شعور دینا،خوبصورت رشتے عطا کرنا۔اچھے اور برے کی تمیز دینا،حلال اور حرام کا فرق سمجھا دینا،علم کی دولت عطا کرنا۔پھل،پھول،سبزیاں،دریا،پہاڑ،سمندر،اور سب سے بڑھ کر خوبصورت موسم پیدا کرنا ہے ،ایک نعمت سے کم نہیں ہیں۔اور ایک مسلمان اور پاکستانی ہونے کے ناطے ہم خوش قسمت قوم ہیں کہ اس نے ہمیں دنیا کی ان گنت نعمتوں کے ساتھ ساتھ چار خوبصورت موسم عطا کیے ہیں،نیا میں ایسے بھی ممالک ہیں جہاں پورا سال ایک یا دو موسم رہتے ہیں۔اور پیارے پاکستان میں پورا سال ہم چار موسم کا لطف اٹھاتے ہیں۔
موسموں کی اقسام
یہ چار موسم درج ذیل ہیں
موسم گرما
موسم سرما
موسم خزاں
موسم بہار
موسم گرم کی آمد
ویسے تو تمام موسم ہی انتہائی خوبصورت اور ایک نعمت سے کم نہیں ہیں ۔ہر موسم کا اپنا ہی مزہ ہے لیکن موسم گرما یا گرمیوں کے موسم کی ایک الگ ہی دلکشی ہوتی ہے۔یہ جتنا گرم ہوتا ہے۔اتنا ہی مزہ دیتا ہے۔اس موسم کا آغاز اپریل سے شروع ہوتا ہے اور جون میں یہ پورے جوبن پر ہوتا ہے۔
مشروبات کا استعمال
موسم گرما کے آتے ہی ایک ہلچل اور گہما گہمی شروع ہو جاتی ہے۔اور گرمیوں کا استقبال فریج میں پانی کی بوتلیں رکھ کر کیا جاتا ہے۔اور فریج گرمیوں میں فریج کی بجائے الماری بن جاتی ہے۔اس کے علاوہ فریج کو دیگر لوازمات سے بھی بھر دیا جاتا ہے۔طرح طرح کے مشربات اور پھل فریج کی زینت بن جاتے ہیں۔گویا فریج کو دلہن کی طرح سجا دیا جاتا ہے۔بازاروں میں بھی خوب ہلچل ہوتی ہے۔جگہ جگہ مشروبات کے ٹھیلے لگائے جاتے ہیں،گنے کا رس،املی آلو بخارے کا شربت،گولا گنڈا بازاروں کی جان ہوتے ہیں،گرمی کے ستائے لوگ اپنے اپنے من پسند مشروبات سے دل گرمی دور بھگانے کی کوشش کرتے ہیں۔اور جن کو اپنے بیوی بچوں سے پیار ہوتا ہے وہ شاپر میں ڈلوا کر ان کے لیے بھی لے جاتے ہیں۔
اس کے علاوہ لسی کا استعمال گرمیوں میں بڑھ جاتا ہے۔میٹھی اور نمکین لسی دل کھول کر پی جاتی ہے،پہلے پہلے صرف دیہی علاقوں میں چاٹی کی لسی نو ش فرمائی جاتی تھی،اب شہروں میں بھی اسے پسند کیا جاتا ے اور بازاروں میں کئی ٹھیلے صرف چاٹی کی لسی کے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ سوڈا ،بوتلیں اور کئی اقسام کے مشروب گرمیوں کا لازمی جز ہیں۔
پھلوں کا استعمال
گرمیوں میں پھلوں کا استعمال بڑھ جاتا ہے،اور اس موسم میں پھل کی زیادہ اقسا م بازار میں دستیاب ہوتی ہیں۔آم۔تربوز،خربوز،آڑو،خوبانی،آلو بخارا،شہتوت،سٹرابیری،چیری،گرمیوں کی خاص سوغات ہیں۔جن سے بچے بڑے سب ہی مزہ لیتے ہیں۔
سبزیاں
موسم گرما کی سبزیاں بھی الگ ہی مزہ دیتی ہیں۔کریلے اور بھنڈی اس موسم کی خاص سبزیاں ہیں۔اور یہ بہت زیادہ گھروں میں بنائی جاتی ہیں۔اس کے علاوہ سلاد کا استعمال بھی وافر مقدار میں کیا جاتا ہے،کھیرے،ٹماٹر اور تر کی بھرمار ہوتی ہے،جنہیں بڑے شوق سے کھایا جاتا ہے
بجلی کا مسئلہ
موسم گرما ویسے تو بہت لطف دیتا ہے لیکن بجلی نہ ہونے کی وجہ سے یہ مزید گرم ہوجاتا ہے،غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ لوگوں کا جینا دو بھر کر دیتی ہے۔گرمی اور حبس کے مارے برا حال ہوتا ہے۔اور سب سے زیادہ بچے گرمی سے بے حال ہوتے ہیں،مائیں الگ پریشان ہیں اور مرد الگ سے اکتائے ہوئے ہیں۔بجلی کی وجہ سے پانی کا مسئلہ بھی شدت اختیار کر جاتا ہے،غرض گرمیاں پھر رحمت کم اور زحمت زیادہ بن جاتی ہیں۔حکومت کو چاہیے کہ وہ اس سلسلے میں لوگوں کو آسانی فراہم کرے اور بجلی کی بروقت فراہمی کو یقینی بنائے۔تاکہ لوگ آرام اور سکھ کا سنانس لیں۔
حرفِ آخر
ویسے تو گرمیاں مزے کی ہوتی ہیں لیکن بعض اوقات گرمی اتنی شدید ہو جاتی ہے کہ انسان تو انسان چرند ،پرند بھی متاثر ہوتے ہیں۔اور زیادہ مسئلہ تب بنتاہے جب بارش نہیں ہوتی۔
اس لیے کہ بارشیں زمین میں پانی کی کمی کا باعث بنتی ہیں۔جس کی وجہ سے فصلیں بھی شدید متاثر ہوتی ہیں۔اس لیے اﷲ سے رحمت کی بارش کی بھی دعا کریں۔اس وقت بھی موسم گرما چل رہا ہے اور بارشیں کم ہو رہی ہیں۔۔اس لیے ہم سب کو مل کر بارش کے لیے دعا کرنی چاہے ۔تاکہ نا صرف ہمارا موسم گرما اچھا گزرے بلکہ بجلی اور پانی کا مسئلہ بھی حل ہو۔آمین ثم آمین

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*