Mariyam Siddiqui Poetry

شاعری

ایک خواب ہے میرا
میں چاہتی ہوں یہ کہ
تم چاہو مجهے میری طرح
میری محبت تمہاری رگ رگ میں بسی ہو
تمہاری ہر دهڑکن بس میرے ہی نام سے جڑی ہو
میری محبت کی خوشبو چہار سو پهیلی ہو
کاش وہ وقت بهی میں دیکهوں
تم ڈهونڈو مجهے میری طرح
جب جب تم مجهے سوچو
جب جب تم مجهے تلاشو
میرے ساتھ گزرا ہر پل ہر ایک لمحہ
میری ہر یاد تمہاری آنکهوں میں نمی بن کر اترے
اسوقت گر  تم مجهے محسوس کرنا چاہو
تو میرا احساس بهی نہ پاسکو

٭٭٭٭٭

مریم صدیق

“مجهے تم یاد آتے ہو”
لمحہ لمحہ بتایا تها جو سنگ تمہارے
جب جب سوچوں ان گزرے پلوں کو
مجهے تم یاد آتے ہو
تهامے ہوئے ہاتھ کسی کا
جو ہنستا ہوا کوئی چہرہ دیکهوں
مجهے تم یاد آتے ہو
ضد کر کے منواتا ہے جب کوئی بات اپنی
ہاں اس پل بهی اسے دیکھ  کر
مجهے تم یاد آتے ہو
ہزار جتن کئے اب تک تمہیں بهول جانے کے
اور ہر کوشش کے بعد پهر
مجهے تم یاد آتے ہو

٭٭٭٭٭

مریم صدیق

میں اکثر سوچتی ہوں

ان لمحوں کے بارے میں
تمہارے جهوٹے سچے وعدوں کے بارے میں
چاندنی راتوں میں کهائی
ان سب قسموں کے بارے میں
وہ دنیا سے لڑجانے کے وعدے
وہ سب کچھ ہار کر  اپنانے کے وعدے
وہ محبت میں اعتبار کی قسمیں
وہ وفائیں نبهانے کے وعدے
میں اب بهی سوچتی ہوں یہ
تمہارے وعدے گر سچے تهے
وہ سب دعوے بهی پکے تهے
پهر کیوں نہ ہوئی جیت ہماری
کیوں نہ بن سکی ہمسفر یہ محبت ہماری…؟؟

٭٭٭٭٭

مریم صدیقی

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*