Karachi Sb Ka، Karachi Ka Kon? Article By Sadia Anum

کالم

کراچی سب کا، کراچی کا کون؟

سعدیہ انعم

تقریباً روز ھی کیمرے کی آنکھ مجھے اسکول کے سامنے کا منظر دکھاتی جو میرے لئے ایک طرف تکلیف کا باعث ہوتا تو دوسری طرف اشتعال کا سبب ہم لوگ کتنے خود غرض اور جاہل هو گئے ہیں کہ نہ ہمیں اپنی اسلامی تعلیمات کا خیال ہے نہ اپنے ملک کی زمین کا جسے کتنے مسلمانوں کے خون کے عوض حاصل کیا گیا ۔
حسبِ معمول اس دن بھی میں آفس میں موجود تھی کہ میری نظر اسکرین پر پڑی۔
کیا دیکھتی ہوں کہ ایک خاتون  ہاتھ میں کوڑے کا بھرا شاپر پکڑے آتی ہے اور اس شاپر کو وہ اسکول کے عین سامنے موجود کوڑے کے ڈھیر کا حصہ بنادیتی ہے جسے اسکول  انتظامیہ کئیں بار صاف بھی کرواچکی ہے کچرا پھینک کر وہ سیدھی اسکول میں آن پہنچتی ہے ۔
چونکہ چھٹی کا وقت تھا لہذا وہ اپنی 6 سالہ بچی کو اسکول سے ساتھ لیتی ہے اور اسکے ماتھے پر پیار سےبوسہ دیتے ہی اسکے چہرے پر حفاظتی ماسک پہناتی ہے اور اسکول سے باہر نکل جاتی ہے۔
سارا ماجرہ اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے بعد مجھ سے رہا نہ گیا اور اسی لمحے میں چوکیدار سے اس خاتون کو اندر لانے کو کہتی ہوں۔
جب وہ اندر آتی ہے تو، میں اس سے پھینکے گئے کچرے کے بارے میں کہتی ہوں کہ ” اگر آپ لوگ یوں یہاں کچرا نہ پھینکیں تو ہمارے بچوں کو کسی حفاظتی ماسک کی ضرورت ھی نہ پڑے۔ آپ نے اپنی بچی کو تو ماسک پہنا دیا باقی بچوں کا کیا ؟؟

میری بات سنتے ھی  جیسے اُسے برا سا لگا اور جواب میں کہنے لگی “میں اکیلی ھی نہیں پھینک رہی کچرا سب پھینکتے ھیں میں نے تو بس آج پھینکا ہے اور آپ کس کس کو روکیں گی ؟پورا کراچی کچرا کچرا ہے ۔

اس خاتون کی سوچ پر بڑا افسوس ہوا اور غصہ بھی آیا لیکن  غصے پر قابو پاتے بڑی نرمی سے اس خاتون سے دوبارہ مخاطب ہو کر کہنے لگی
“دیکھئیے یہ ہمارے بچے ہیں ہم ھی نے انکا خیال کرنا ہے ہم سے جو ہوسکتا ہمیں وہ تو کرنا چاہیے نا ؟ میں امید کرتی ہوں کہ کم از کم آئندہ آپ یہاں کچرا نہیں پھینکیں گی مجھ سے جس جس کو روکا گیا میں ضرور روکوں گی ۔”
لہجے کی نرمی نے اسے اثبات میں سر ہلانے پر مجبور کر دیا اور میں نے دوبارہ کم از کم اس عورت کو پھر وہاں کچرا پھینکتے نہیں دیکھا
مگر آج بھی آتے جاتے کئیں  لوگ جن میں کالج یونیورسٹی اور  بڑی بڑی گاڑی میں آفس جاتے لوگ شامل ہیں وہاں کچرا پھینک کر جاتے ہیں اتنا بھی نہیں سوچتے کہ سامنے معصوم بچوں کا اسکول ہے اور انکا پھینکا کچرا بچوں میں  بیماریاں پھیلانے کاسبب بن رہا ہے بار بار کچرا صاف کروانے کے باوجود وہاں ہر ہفتے ڈھیر لگ جاتا ہے
کراچی جسے مِنی پاکستان بھی کہا جاتا ہے اور پوری دنیا کا چوتھا بڑا شہر ہونے کا اعزاز ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا کا چھٹا سستا ترین شہر ہونے کا اعزاز بھی شہرِ قائد کو ھی حاصل ہے۔
وہ شہر جسے کبھی “روشنیوں کا شہر” اور “شہروں کا پُل” جیسے القابات سے فخر سے پکارا جاتا تھا آج کل کچراچی جیسے نام سے پکارا جاتا ہے ۔ اور اسکی ذمہ دار کہیں نہ کہیں کراچی کی عوام خود بھی ہے ۔

ایک طرف کراچی کے میئر وسیم اختر نے عدالتِ عظمیٰ کے سامنے تمام تر اختیارات کا ذمہ دار سندھ حکومت کو قرار دیتے ہوۓ خود کو بری الذّمہ ثابت کر دیا تو دوسری طرف(SSWMA) سندھ سالڈ ویسٹ مینیجمنٹ اتھارٹی نے شہر کی صفائی کی ذمہ داری چینی کمپنی کے کاندھوں پر ڈال دی ۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے بھی ایک ہفتے میں کراچی کو صاف کرنے کا نوٹس دے کر اپنا فرض ادا کردیا
مگر اس پر بھی کسی نے کان نہ دھرے ہاں البتہ ایک دن مجھے ایسا دیکھنے کو ضرور ملا جب کراچی میں مختلف مقامات پر زور شور سے صفائی کرائی گئی یہ صرف بلاول بھٹو کے ہونے والے جلسے کے مرہون مِنت ہوا۔اب پروٹوکول کے لئے اتنا تو کرنا ہی تھا سندھ حکومت نے ورنہ  کراچی سب کا ہے کراچی کا کون ؟ جو اسے صاف کرے یا پھر کرائے۔

کثیر آبادی کے اس شہر میں یومیہ 20 ہزار ٹن کچرا پیدا ہوتا ہے بڑے شہر کے مسائل بھی بڑے ھی ہوتے ہیں جنکا سامنا دوسرے شہروں کو ویسے نہیں کرنا پڑتا جیسے ملک کے بڑے شہر کو کرنا پڑتا ہے کراچی میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہونے کے بعد کراچی کا کچرا ایک ایسا مسئلہ ہے جو حل ہونے کا نام ھی نہیں لے رہا ۔

اگر انتظامیہ چاہے تو اسی کچرے کو کراچی والوں کے لئے مفید بنا سکتی ہے۔
ایک سروے رپورٹ سے معلوم ہوا کہ کراچی سے بلوچستان جانے والی سڑک پر واقع ایک گاؤں کے قریب کچرے کا میدان ہے جہاں یومیہ تقریباً 4000 ٹن کچرا لایا جاتا ہے کچرے میں موجود ہڈیاں، سلور،  تانبہ پیتل اور شیشہ تقریبا ً12 ہزار  لوگوں کے روزگار کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔

ایک ریسرچ کے مطابق
برطانیہ کے شہر سویڈن میں کچرے کو ری سائیکل کر کے 90 فیصد سے زیادہ بجلی پیدا کی جاتی ہے ۔
ری سائیکلنگ پلانٹ کے تحت لاکھوں گھروں کو بجلی فراہم کی جا رہی ہے اور اب تو نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ انھیں ری سائیکلنگ کے لئے کچرا دوسرے ملکوں سے لینا پڑ رہا ہے
تو پھر کراچی کا یومیہ 20 ہزار ٹن کچرا صرف بیماری اور گندگی پھیلانے کے لئے ہی ہے کیا ؟
کیوں ہم اس سے مستفید نہیں ہوسکتے؟ کیوں کوئی اس شہر کی ذمہ داریاں نبھانے والا نہیں  ؟
ووٹ لینا ہو پیسہ سمیٹنا ہو تو ہر پارٹی کراچی سے اپناحصہ اورحق بٹورنے آ دھمکتی ہے مگر جب بات مسائل کی آئے تو ذمہ داری ایک کاندھے سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے پر اور پھر مسلسل کاندھوں کی سواری سے تھک کر دم توڑ جاتی ہے ۔جسکا جنازہ عوام کبھی آہوں کی آواز میں ادا کرتی ہے کبھی دُہائیوں کی صداؤں میں
ٹھیک ہے اگر ہماری حکومت کچرے سے بجلی نہیں بنوا سکتی تو کچھ بھی کر کے یہ کچرا سویڈن ھی بیچ دے بیچنا کیا ہے مفت میں ہی دے دو اُنھیں کسی کے تو کام آئے کراچی کا کچرا جسکے پڑے رہنے سے نہ صرف ماحول آلودہ ہورہا ہے بلکہ روز بروز نئی نئی بیماریاں اس شہر کا رخ کر رہی ہیں  آخر میں یہی کہوں گی اس بار ووٹ سوچ سمجھ کر دیں کیونکہ ملک ہو یا شہر دونوں کی عزت ووٹ کی عزت سے جڑی ہوتی ہے ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*