Ghairat Article by Roha Sadia

کالم

غیرت

روحا سعدیہ

اللّٰہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے میں نے حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد کو عزت و اکرام سے نوازا،

آدم ع کی اولاد کا ہر شخص خواہ وہ اچھا ہو یا برا،

مرد ہو یا عورت۔۔۔ ہر انسان عزت کے قابل ہے،

اپنی عزت نفس اور انا کی خاطر، خاندان اور معاشرے کی نظر میں معزز بننے کے لئے ان دو ( لڑکے اور لڑکی) کو قتل کر دینا جنہوں نے اپنی پسند سے والدین کی مرضی کے خلاف جا کر ایک ساتھ زندگی بسر کرنے کا عہد کر لیا ہو، یا کر رہے ہوں، غیرت کا نام دیا گیا ہے۔

جب دو انسانوں کو زندگی کے سفر میں ایک کرنے کی بات ہو رہی ہو تو ایک ہونے والے دو انسان انھیں ہی منتخب کرتے ہیں جنہیں وہ اپنا ماننے کو تیار ہوں،

اس وقت جہاں والدین  کو  چاہ ہوتی ہے کہ جس لڑکے یا لڑکی کو وہ منتخب کر چکے ہیں وہ بہتر ہے، وہاں بچوں کو بھی یہ چاہ ہوتی ھے کہ والدین انکو۔۔۔ انکی پسند کو سمجھیں۔ لیکن جب والدین اور بچے ایک دوسرے کو نہیں سمجھ پاتے تب راستے علیحدہ ہونے لگتے ہیں۔ اور تبھی والدین کیلئے انکی مرضی اور بچوں کیلئے انکی مرضی اہم ہونے لگتی ہے۔

بعض اوقات بچے اتنی ہمت ہی  نہیں کر پاتے کہ والدین سے اپنی بات کہہ سکیں اور بعض اوقات والدین سمجھ ہی نہیں پاتے، کہ وقت گزرنے لگتا ہے اور پھر گزر جاتا ہے۔

میں والدین یا بچوں میں سے کسی ایک کا ساتھ نہیں دوں گی کیونکہ جہاں بچوں کے لئے انکی محبت اہمیت رکھتی ہے وہاں والدین کے لئے انکے بچے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔

میں بچوں سے کہوں گی کہ اگر آپ کسی کو پسند کرتے ہیں تو آپنے والدین کو بھی اپنی پسند، اپنی خوشی میں راضی کیجیے۔ اور جہاں آپ محبت کو دیکھتے ہیں تو وہاں ذمہداری کو بھی ترجہی دیا کریں، کیونکہ محبت کے ساتھ زندگی میں اور بھی بہت سی ضرورتیں ہوتی ہیں،

“تو ان عورتوں سے نکاح کیا کرو جو تمہارے لیے پسندیدہ اور حلال ہوں۔ (سورہ النساء)

۔،  اور والدین سے بھی کہوں گی کہ اپنے بچوں کو سمجھنے کی کوشش کیا کریں، کیونکہ اگر انکے بچے خشگوار زندگی بسر کریں گے تو انکی ائیندہ نسلیں بھی اچھا رویہ اپناہ سکیں گے، اگر والدین اپنے بچوں کیلئے کسی فرد کو بہتر سمجھتے ہیں تو وہاں بچے بھی اپنی خوشی آپنے سکون کا سوچتے ہیں۔

کیونکہ وہ اپنے اندر  اس فرد کو محسوس کرتے ہیں جسے وہ اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہتے ہیں،  اور کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ آپ محسوس کسی اور کو کریں اور حصہ دار کسی اور کو بنائیں،۔

“تم کسی بھی انسان کو برا نہ سمجھو، شاید وہ ویسا نہ ہو جیسا تم سمجھتے ہو، حقیقی علم تو اللّٰہ کے پاس ہے اور تم تو لاعلم ہو۔ (سورہ البقرہ)

۔کیسا جوبصورت رشتہ ہے جس میں بندھنے کے لیے دو افراد  نکاح جیسے جائز راستے کا انتخاب کرتے ہیں،

لیکن کیا خوب ہو جو اس بندھن میں باندھنے سے پہلے لڑکی سے اس کی رضامندی لے لی جائے۔

اور لڑکی سے اسکی رضامندی پوچھنے کا حکم اللّٰہ تعالیٰ نے بھی دیا ہے،

نکاح میں رضامندی کے متعلق نبی اکرم ص کا فرمان ہے کہ

“عورت کا نکاح اسکی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے”

“”ولی کو جائز نہیں کہ وہ اپنی ولایت میں رہنے والی عورت کو مناسب رشتہ آنے پر ، جس پر لڑکی بھی راضی ہو ، سے شادی نہ کرنے دے۔”

والدین بچوں کی پیدائش سے لے کر جوان ہونے تک انکی ہر بات مانتے ہیں لیکن جب شادی جیسے اہم فیصلے کی گھڑی آتی ہے تو بچوں سے پوچھے بغیر ہی فیصلہ کر لیتے ہیں، لیکن بہت سے والدین اس مقام پر بھی اپنے بچوں کی خوشی کو اہمیت دیتے ہیں اور وہی فیصلہ کرتے ہیں جس میں والدین اور اولاد۔۔۔ دونوں کی خوشی ہوتی ہے۔

اس اہم فیصلے کے وقت جہاں لڑکوں کی مرضی کو اہمیت دی جاتی ہے وہی لڑکیوں کی رضامندی کو بھی اہمیت ملنی چاہیے، کیونکہ لڑکیاں بھی اسی شخص سے جرنا چاہتی ہیں جو انکیلیے اہمیت رکھتا ہے،

مگر ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کو یہ حق بہت کم ملتا ہے،

اور پھر وہی بات ۔۔۔ کہ جب لڑکا اور لڑکی کی بات کو اہمیت نہیں ملتی تو وہ خود سے فیصلہ کر لیتے ہیں اور اس راستے پر چل پڑتے ہیں جس پر یا تو وہ خاندان سے الگ ہو جاتے ہیں یا پھر انہیں دنیا سے رخصت کر دیا جاتا ہے۔

دو لوگ جو ایک ہونے کی غرض سے نکلتے ہیں، ایک ہونے سے پہلے ہی پھر سے الگ کر دیے جاتے ہیں صرف اس وجہ سے کہ انہوں نے اپنے گھر والوں کی عزت روند کر ایک ہونے کا فیصلہ کیا ہوتا ہے،

اس معاشرے میں عزت بہت مشکل سے ملتی ہے، معاشرے میں رہنے والے لوگ آپکی خدمات ، اپکی خوبیوں کو کبھی نہیں سراہتے لیکن جب انہیں کوئی خامی نظر آ جائے تو اسے موضوع بنا کر تبصرے کرنے لگتے ہیں۔

میرے نزدیک معاشرے میں بنائی ہوئی عزت اتنی اہمیت نہیں رکھتی کیونکہ یہ عزت ان لوگوں کے لئے ہوتی ہے جو ایک وقت تک ساتھ رہتے ہیں، ہمیشہ کے لیے نہیں،

میرے نزدیک وہ عزت اہمیت رکھتی ہے جو اللّٰہ تعالیٰ کے  راستے پر چل کر مجھے ملے۔ جو دکھاوے کے لئے نہ ہو، جو لوگوں کی نظروں میں اچھا بننے کی غرض سے کمائی ہوئی نہ ہو،

میں سمجھتی ہوں کہ ایسی نوبت ہی نہ آئے کبھی جو والدین اور اولاد ایک ہو کر ، اس مسلئہ کا بہترین حل نکال لیں، لیکن جب حل نہیں نکلتا تو دونوں اپنا اپنا راستہ بنانا شروع کر دیتے ہیں۔ اور بات قتل تک پہنچ جاتی ہے۔

نبی کریم ص نے فرمایا کہ

“تم میرے بعد ایک دوسرے کو قتل کرنے کے سبب کفر کی طرف نہ لوٹ آنا”

اور فرمایا

” مومن کو قتل کرنا اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک تمام دنیا کے برباد ہونے سے بڑا ہے۔

عزت دینا اور کسی مقام پر واپس لے لینا صرف اللّٰہ تعالیٰ کے ہاتھوں میں ہے ، معاشرے میں رہنے والے لوگ آپکی عزت آپ سے کبھی نہیں لے سکتے۔

اور اپنی عزت کے لئے اپکو کسی کا نقصان کرنے سے عزت کبھی نہیں ملے گی۔

جب آپ کو پتہ چل جائے کہ آپ غلط ہیں تو پھر یہ نہ سوچیں کہ کیا کر چکے ہیں، بس اپنا راستہ بدل لیں اور خود کو پہلے سے بہتر بنانے کی کوشش کریں، کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ آپ کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*