Digest Deewangi Article By Maryam Quraishi

کالم

ڈائجسٹ دیوانگی

مریم قریشی

ہم چو نکہ ادب سے شغںف ر کھنے والے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں؛ تو آنکھ کھو لتے ہی ہم نے ہر جگہ اردو ڈا ئجسٹ ؛ علامہ اقبا ل؛ پر وین شاکر اور فرحت عباس شاہ ؛خانہ خزانہ؛ عمران ڈائجسٹ کو اپنا ہمجولی پایا ؛ خیر جب طفلِ جھولہ تھے تب تک تو صرف دیکھنے اور پھا ڑ نے کے لیے کتا بوں کی جانب ہمکتے تھے ؛ لیکن جب ہماری قا ئدہ پڑ ھنے کی عمر تھی ہم نے ڈائجسٹ پہلےپڑ ھا ؛ ہم تب بلکل کو باکل پڑ ھتے تھے ؛ پہلی کتاب جو ہم نے پوری  پڑ ھی وہ شا ید دیو کا قصہ تھی؛ ہمیں  یہ یاد اس لیے ہے کہ ہماری پرورش دیسی گھی ؛ بادام اور خا لص دودھ پر ہو ئی ہےشاید یاداشت اس وجہ سے خا صی تیز ہے؛ دوسری کہانی سسپنس ڈا ئجسٹ میں چھپنے والی کوئی انتقا می داستان تھی یہ دونوں کہانیاں ہم نے بتد ریج تیسری اور چو تھی جما عت میں پڑ ھی تھیں ؛ اس کے بعد ایک سے ایک سلسلہ چل پڑا چچا بھلکڑ اور حا طم طا ئی سے لے کر عمرو عیار تک ہر کہانی ہم نے پڑھ ڈالی ؛ ہم اپنی پاکٹ منی اکثر کہانیاں خریدنے کے لیے خرچ کرتے تھے ؛ ہمارے خالہ زاد بھا ئی اور ماموں عمران سیریز پڑ ھتے تھے ہم کم عمر تھے تو ہمیں بہت مشکل سے پڑ ھنے کے لیے ملتے تھے ؛ پھرہم نے ان  ڈا ئجسٹ کا پتہ چلا ہی لیا؛ ایک ہمارے دور کے عزیز اور محلےدار عمران ڈا ئجسٹ کرائے پر دیتے تھے ایک دن کے پانچ روپے ؛ اور دو دن کے دس روپے؛ اور وہ قابل اعتبار شخص کو ہی اپنے رسا لے دیتے تھے ؛ہم نے دو تین لوگوں سے اسپیشل سفا رش کر وائی پھر جا کر انہوں نے اپنے گو ہر نایاب میں سے ہمیں ؛ ایک رسالہ دیا وہ بھی کڑی شرا ئط پر ۔ تو وہ شاید 2009 کا زمانہ تھا؛تب گر میوں کی چھٹیاں تھیں اورہم نانی اماں کے  گھر تھے ؛ موسم اچھا ہوا تو ہم کھڑ کی میں رسا لہ رکھ کر چھت پر چہل قدمی کرنے گئے ؛ پکوڑوں اور چائے سے انصاف کرتے اور بارش میں بیھگتے ہم نےڈائجسٹ کو بلکل فراموش کر دیا ؛ نتیجہ یہ نکلا کہ کھڑ کی کھلی ہو نے کے با عث وہ بیھگتا رہا اور عدنان سمیع کے اولڈر ورژن میں ٹرانسفارم ہو گیا؛ اگلے چار دن دھوپ نہیں نکلی؛ وہاں سے ڈا ئجسٹ وآپسی کے مطالبے شروع ہو گے ہم  ساون کا تعلق طبیعت سے جوڑتے ہوئے ٹالتے رہے؛ پھر ہم نے اسے دھوپ میں سکھا یا اور بہتراً کو شش کی وہ سو کھ جائے ؛جانے کس فطنہ پرور نے ان کو خبر کر دی پھر کیا تھا وہ نانی اماں کے گھر تشریف لے آئے ہم نے ڈائجسٹ کے پیسے دینے کا کہا مگر وہ حضرت اخلا قیات پر لیکچر دیتے رہے اور اعتبار توڑنے پر انہوں نے ہمیشہ کے لیے ڈا ئجسٹ دینے سے منع کر دیا  اس وقت وہ ہمیں سرخ دیو لگے شدت جذبات سے ان کی رنگت شدید سرخ جو ہو چکی تھی ؛خیر پھر چار سال بعد ہم نے ان سے ڈائجسٹ منگوائے وہ بھی بے پناہ منتوں مرادوں پر ؛ پھر کیا ہواہما رے ستارے گردش میں تھے ہم سے ان کا ڈائجسٹ کھو گیاپھر خاندان کی ہر تقریب میں وہ قصہ دوہراتے تھے خیر اس کے بعد ہم نے توبہ کر لی۔اور آن لائن عمران ڈائجسٹ پڑ ھنے لگے ؛ گھر میں ہر ایک نے ہمیں ملامت کی ؛ مگر وہ ہم ہی کیا جو باز آجا ئیں ؛ اب ہم شعاع ؛خواتین؛ کرن اور آنچل پڑ ھنے لگ گئے ؛ پہلا ناول جس پر ہم لگاتار ایک ہفتہ تک روتے رہے وہ جو قرض رکھتے تھے جان پر تھا جو ہمیں کسی خیر خواہ نے پڑ ھنے کے لیے دیا تھا؛ ہم نے تب پہلی بار اپنی ڈائری میں ڈا ئجسٹ سے متعلق کو ئی لا ئنز لکھیں؛ پورا مہینہ ہماری آنکھیں بات بات پر بھر آتیں ؛ فر حت اشتیاق سے زیادہ شاید ہم نے ڈائیلاگ دہراے ہوں گے ؛پھر ہمیں خود ڈائجسٹ  خریدنے کی اجازت مل گئی تو ہم ڈائجسٹ کچھ گھنٹوں میں ختم کر دیتے تھے؛ عام لفظوں میں ہمیں چسکہ پڑ چکا تھا اور دنیا کے دلفریب غافل کر دینے والے اجزا میں سے ایک ہے؛ جو بھی ڈا ئجسٹ سے محبت کر نے والا ہوتا ہم ان سے دوستی گا نٹھ لیتے ؛ بڑھتے بڑھتے یہ نشہ ادب کی مختلف کتابوں تک بڑھ گیا؛ ہاشم ندیم؛ فیاض ماہی؛ بانو قدسیہ ؛ اشفاق احمد سے لے کر عمیرہ ؛ نمرہ ؛ فرحت ؛کنول نازی ور سمیرا حمید تک جا پہنچا؛ اب ہم آٹھ ڈا ئجسٹ لیتے تھے ؛ دن ورات کی تخصیص کیے بغیر پڑ ھتے تھے اورحلقہ احباب میں ہم  Book worm کے نام سے مشہور ہو چکے تھے لوگ ہماری ادبی کتابیں پڑ ھنے کی تعداد کو کبھی رشک اور اکثر طنز کی نگاہ سے دیکھتے ؛ ہمرے گھر میں چونکہ تعمیر ہو رہی تھی تو آئے دن ہمیں ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں جانا پڑتا ہم پہلے ڈائجسٹ کو شفٹ کرتے بعد میں خود ہوتے؛ ہمارے گھر والے اب ناک کی حد تک عاجز آچکے تھے؛ ہمارے والد صاحب کی نظر میں ہمارے بگاڑ کا باعث ڈائجسٹ تھے ؛ ہماری والدہ نے جب ہر ممکن کوشش کر دیکھی کہ ہم ِان کو نہیں چھوڑتے تو انہوں نے روزانہ کی بنیاد پر صبح وشام وظیفہ کرنا شروع کر دیا وہ تسبیح کے دانے گھما ئے جاتیں اور جب ہم ادھر ادھر ہوتے تو پو ھنک مارنے پہنچ جا تیں؛ گھر کے سب افراد اس سازش میں شریک تھے ؛ ہم مسلسل ڈائجسٹ لانے کے لیے اپنے چا چو کی منت کرتے ؛ پہلے ڈائجسٹ گھر آتا تھا؛ چاچو نے کہا ڈائجسٹ دینے والا دوبئ چلا گیا ہے تو یہ عر صہ ہم نے جیسے تیسے مانگ کر پڑ ھا ؛ لیکن وہ نہیں گیا تھا ہمیں ایک دن بازار میں وہ نظر آگیا ہم نے گھر آ کر  خوب سنا ئیں ؛ خیر ہمیں دوبارہ ڈائجسٹ  پڑ ھنے کی اجازت مل گئ کالج سے وآپسی پر ہم خود گا ڑی  میں ڈا ئجسٹ کا پتا کر نے جاتے ؛ اور ڈائجسٹ کے اسٹال والے کو خوب دعائیں دیتے ؛ جب جب نماز پڑ ھتے اس کے کام میں برکت کی دعا کرتے چلتی گاڑی میں سلسلے وار کہانی شروع کر دیتے بچپن میں پیدل چلتے ہوے بازار سے دوکان تک بھی ہم نے بچوں کی کہا نیاں پڑھی ہیں ؛ پھر خدا کی کرنی یوں ہوئی کے ہم بیمار ہوے تو ہمارا دل خود بخود رسا لوں سے کھٹا ہو گیا اور بیمار بھی بلا کے ہوئے ؛ اس کا تذکرہ ہم کسی اور وقت تفصیل سے کریں گے ایک سال تک ڈائجسٹ اور  باقی کتابیں لیتے رہے مگر ایک تک پڑھ کے نہ دیا  تو ایک دن ہم نے اپنی بر سوں کی کمائی کو ردی میں دینے کا سوچا ؛ ہمارے دل کو کچھ ہوا ایک ہفتہ تک ہم گھر کے کو نوں کھدروں سے ڈا ئجسٹ بر آمدکر تے رہے اور وہ جمعہ کا یاد گار دن تھا جب ردی والا چار بڑے تھیلے لاد کر لے گیا؛ دوسرے ناول اور اسلامی کتب کے بغیر ؛ ہزاروں روپے کے ڈائجسٹ پانچ سو  میں بکے؛  ہماری والدہ ایک مہینہ تک شکرانے کے نفل پڑ ھتی رہیں؛ اور انہوں نے اعلان کر رکھا تھا کہ وہ بریانی کی دیگ بنا کر با نٹیں گی جب ہم ڈا ئجسٹ پڑ ھنا چھو ڑیں گے ؛ تو انہوں نے وعدہ وفا کیا ؛ اور محلے میں کافی لوگوں نے دوبارہ بھی چاول منگواے سب کا کہنا یہ تھا ان میں تو سواد ہی کوئی انو کھا ہے خیر چند لوگ ہی اس بات سے واقف تھے کے ڈا ئجسٹ چھوڑنے کی خوشی میں یہ ضیا فت تھی؛ پھر اب ہم کبھی کبھی آن لائن پڑ ھ لیتے تھے؛ لیکن ڈائجسٹ پا لیسی کی وجہ سے اب کم کہا نیاں ہی اپلوڈ ہوتی ہیں  لیکن آج کل نئی سوچ آن لائن  ڈائجسٹ ایک اچھا ڈیجیٹل ڈائجسٹ ہے آپ بھی اس کو ضرور پڑھیں ؛  اب ہماری عادت مہینے میں پانچ سے سات کہا نیاں پڑ ھنے تک محدود ہو چکی ہے اور ہمیں ڈیڈھ نمبر کا چشمہ لگ چکا ہے؛جو کہ یادگار ہے ہمارے ڈائجسٹ پڑھنے کے دور کی؛ اور ہمارے سب گھر والے خوش ہیں؛ ہمارے دوست احباب نے اسٹارٹ میں ماننے سے انکار کر دیا تھا کہ ہم اپنے پچپن کے پاگل پن کو چھوڑ چکے ہیں  ؛ اس بات کو دوسال ہونے والے ہیں؛ تو اب سب کو یقین آنے لگ گیاہے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*