Aurat Ka Parda By Article by Roha Sadia

عورت کا پردہ

روحہ سعدیہ

 عورت اللّٰہ تعالیٰ کا دیا ہوا نایاب تحفہ ہے جسے اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ کی پسلی سے پیدا فرمایا، اللّٰہ تعالیٰ نے عورت کو جہاں بہت سے عظیم عہدوں پر فائز کیا وہاں عورت کو یہ حق بھی دیا کہ وہ اپنی عزت بھی کرے، اپنی عزت کی حفاظت بھی کرے اور اپنی عزت کی حفاظت کے لیے پردہ بہترین انتخاب ہے۔ زمانہ جاہلیت میں جب پردے کا حکم نہیں تھا تب عورتیں خمار اور اوڑھنی سر پر ڈال کر اس کے دونوں پلے پشت پر لٹکا لیتی تھی اس طرح سینہ کی ہییت نمایاں رہتی تھی یہ گویا حسن کا مظاہرہ تھا، جاہلیت میں عورتیں اور لونڈیاں کھلی پھرتی تھی اور بدکار لوگ ان کا پیچھا کرتے تھے۔ پھر قرآن کریم نے بتلادیا کہ اوڑھنی کو سر پر سے لا کر گریباں پر ڈالنا چاہتے تاکہ اس طرح کان، گردن اور سینہ پوری طرح چپھا رہے۔تاکہ شریف عورتوں اور لونڈیوں میں فرق معلوم ہو سکے، اے نبی ص ! اپنی بیویوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں، اس سے بہت جلد انکی شناخت ہو جایا کرئے گی پھر نہ ستائی جائیں گی اور اللّٰہ بڑا مغفرت کرنے والا ہے۔ (سورہء الاحزاب 59) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم آج کیا کر رہے ہیں، اپنے حال پہ تھوڑا غور کریں، ہماری چادریں، ہمارا پردہ آج کہاں ہے، ہم نے پردے کی جگہ پر فیشن ایبل ڈریس کو منتخب کر لیا ہے اور چادر کے نام پر دوپٹہ تک لینا چھوڑ دیا، اللّٰہ تعالیٰ نے عورت کو اس لئے پیدا نہیں کیا کہ وہ اپنی زیبو زینت کی نمائش کرتی پھرے۔ جب ہم سج سنور کر ، بخیر دوپٹہ کے، فیشن ایبل ڈریس میں گھر سے باہر نکلتے ہیں چاہے وہ کسی بھی مقصد کے لیے کیوں نہ ہو، شہر کی سڑکوں، گلیوں میں کھڑے نوجوان لڑکے ہمیں دیکھ کر آپس میں تبصرے کرنے لگتے ہیں اور پھر یہی وجہ انہیں ایسے راستے پر لے جاتی ہے جو ناجائز بھی ہے اور عزتوں سے محروم بھی کر دیتی ہے۔ اور وہ کیوں نہ دیکھیں، جب ہم خود بن سنور کر نکلے گے تو دیکھنے والے تو دیکھے گے ہی۔ جب ہوا کی بیٹی چست لباس پہن کر باہر نکلتی ہے تو کہیں نہ کہیں دیکھنے والے مرد اس کے سحر میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور پھر یوں مرد ہوس کے پجاری بن جاتے ہیں۔ جب ہم خود چست لباس پہنتے ہیں، جب ہم خود اپنی زیب وزینت کی نمائش کرتے ہیں تب ہم کسی دوسرے کو مورو الزام نہیں ٹھہرا سکتے، تب ہم دیکھنے والے کو ، تنقید کرنے والوں کو تنگ نظر نہیں کہہ سکتے۔ ہم دیکھنے والوں کو یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہمیں نہ دیکھیں، بللکہ ہمیں خود کو ایسا بنانا ہے کہ کوئی ہمیں دیکھ کر بھی نہ دیکھ سکے۔ اور یہ تب ہی ممکن ہے جب ہم باپردہ ہونگے، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور کہہ دے ایمان والیوں کو نیچی رکھیں اپنی آنکھیں اور نہ دکھائیں اپنا سنگار مگر جو کھلی چیز ہے اس میں سے، اور ڈال لیں اوڑھنی اپنے گریبان پر۔اور نہ ماریں زمین پر اپنے پاؤں کو کہ جانا جائے جو چھپاتی ہیں اپنا سنگار۔(سورہ نور31) آج کے ماڈرن دور میں جب ہم کسی ایسی عورت کو دیکھتے ہیں جس نے پردے کو اپنایا ہوا ہے تو ہم اس پر تنقید کرنے کو حق سمجھتے ہیں، اسکو یہ احساس دلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس کے پردے کی کوئی اہمیت نہیں ہے، اسکی اچھی بات پر جواب میں ہم اسے ایسے ٹریٹ کرتے ہیں کہ وہ پھر ہمیں غلط راستے پر چلنے سے منع نہیں کرتے کیونکہ ہم اس قابل نہیں ہوتے کہ ہم انکی بات سمجھ سکیں۔ “ہم پردہ اس لیے نہیں کرتے کہ لوگ ہماری تعریف کریں یا ہم پر تنقید کریں، ہم پردہ اس لیے کرتے ہیں کہ ہمارا پردہ کرنا ہمارے اللّٰہ کو پسند ہے” ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللّٰہ تعالیٰ نے پردے کا حکم جہاں عورتوں کو دیا ہے وہی مردوں کو بھی پردے کا حکم دیا، کہ جب مرد کسی بے پردہ عورت کو دیکھیں تو اپنی نگاہیں نیچی کر لیں اور پردے کو اہمیت دیں، تاکہ اگر عورت بے پردہ ہو تو مرد پردہ کر کے اپنے کردار کو صاف رکھیں۔ “انسان کو اللّٰہ تعالیٰ نے کمزور بنایا ہے اس کو معلوم ہے کہ وہ کہاں تک صبر کر سکتا ہے عورتوں اور شہوت سے صبر کرنا آدمی کو بہت دشوار تھا اس لیے اس کی خواہش پورا کر لینے کے جائز طریقے اللّٰہ نے بتلا دییے اور اللّٰہ نے اپنی رحمت سے شریعت میں تنگی نہیں کی۔( سورہ النساء 26) ہمیں یہ نہیں سوچنا کہ کون ہمیں عزت سے دیکھتا ہے اور کون ذلت سے، ہمیں خود کو ایسا بنانا ہے کہ چاھے کوئی عزت دے یا ذلت ہمیں ہماری عزت کرنی ہے، پھر ایسا کب ہوا ہے کہ آپ عزت والے راستے کو چنو اور بدلے میں ذلت ملے۔ اللّٰہ تعالیٰ کبھی عزت والوں کو ذلت نہیں دیتا۔ ۔۔۔۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*