Aqsa shaukat Poetry

عکس

 

ميں اکثرسوچتی ہوں

کہاتھاتونےکہ

“رشتےکبھی ختم نہيں ہوتے”

ہاں سچ کہاتھا

! مگرسنو

لگاکربھول جانےسےتو

پودےبھی سوکھ جاتےہيں

بارش کی نمی جذب ہوتےہی

صحراکی زميں خشک ہوجاتی ہے

خزاں کی آمدسےہی

خوش رنگ پتےزردپڑجاتےہيں

وہی پتےجوشجرکی رونق تھے

پاؤں کی دھول بن جاتےہيں

کڑکڑاہٹ جن کی شورمچاتی ہے

کہ کبھی ہم بھی زندہ تھے

…ہاں رشتےکبھی ختم نہيں ہوتے

! مگرسنو

بدلتےرويوں سےنہيں رہتارشتوں ميں

احساس پہلےجيسانہ اضطراب پہلےجيسا

گھڑی پل نہ ماہ وسال پہلےجيسا

نہ ہی جينےکاانداز پہلےجيسا

ساتھ بيتےرنگين لمحوں کی

ياديں بھی دھندلانےلگتی ہيں

…ہاں رشتےکبھی ختم نہيں ہوتے

! مگرسنو

رشتوں کی بنجرزميں کوبھی

سينچناپڑتاہے

احساس،خيال،اظہارکے

بيج کوبوناپڑتاہے

محبت کی مٹی سے

گوندناپڑتاہے

ورنہ بنجرزميں پرتو

صرف کانٹےہی اگتےہيں

…ہاں رشتےکبھی ختم نہيں ہوتے

فقط۔۔۔

بےحسی کی چادراوڑھ ليتےہيں

اناکی بھينٹ چڑھ جاتےہيں

بےموت مرجاتےہيں

ہاں رشتےکبھی ختم نہيں ہوتے۔۔۔

سچ کہاتھاتونے

٭٭٭٭٭

اقصیٰ شوکت

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*