Agahi Article By Maryam Quraishi

کالم

آگہی 

مریم قریشی

وہ بھی’ عام لڑکیوں کی طرح ایک لڑکی تھی، دنیا جہان سے غافل پڑھا ئ میں مگن اس کا ایک ہی مقصد تھا ڈاکٹر بننا ‘ مگر انتہائ محنت کے باوجود اور دو دفعہ انٹری ٹیسٹ دینے کے باوجود وہ میڈیکل میں داخلہ نہ لے سکی’ پھر تو جیسے طعنوں کی پوجھاڑ تھی’ جو اس کی زندگی میں داخل ہو گئ تھی’ اس نے کوئ اکیڈمی کوئ کالج نہ چھوڑا تھا’ جس میں اس نے تیاری کے ٹیسٹ نہ دئیے ہوں مگر گھر والوں کے بقول بس اسی کی غلطی تھی’ اس کی ہر بات کو الٹا سمجھا جاتا ان باتوں نے اسے ذہنی مریض بنا دیا تھا’ پھر اس نے اپنا علاج کروایا ‘ اب وہ ایک مختلف انسان تھی’ بہت ہی مضبوط کسی بھی دنیاوی تکلیف سے نہ گھبرا نے والی’ گویا دنیا نے اسے خدا کی طرف راغب کر دیا تھا’ اسے آگہی حا صل ہو گئ تھی’ اس نے زندگی کا راز جان لیا تھا’ خدا نے اسے دنیا سے بے نیاز کر دیا تھا، اس کی منزل کچھ اور تھی، خدا نے اسے دانائ عطا کر دی تھی، یہ سودا اسے بہت فائدہ دے گیا تھا خدائے لم یزل نے کچھ عرصہ اسے عارضی تکلیف دے کر دنیا کے اصل چہرے سے روشناس کروایا تھا اور اسے بتا دیا تھا کہ انسان کی سچائ کیا ہے’ اسے دکھا دیا تھا کہ تم ایک سراب کے پیچھے بھا گ رہی ہو’ یہ سراب تمہیں دین دنیا کہیں کا نہیں چھوڑے گا’ بس پھر کیا تھا ‘ اس نے زندگی کا سبق سیکھ لیا تھا’ جس انسان نے زندگی کا سبق سیکھ لیا ہے تو اس کو کسی بھی دوسرے سبق کی ضر روت نہیں رہتی ہے یہی نچوڑ ہے اور یہی حا صل ہے کہ سب کچھ اس دنیا میں “لا حا صل” ہے سوائے اس قرب کے جو بندے کو تقویٰ کے بعد خدا سے حا صل ہو تا ہے ‘ سب مایا ہے ‘ سب ما یا ہے ۔ اسے ہدایت مل چکی تھی’ وہ بظا ہر دنیا کی نظر میں عام انسان تھی مگر اس گنہگار کو اس پاک ذات نے چن لیا تھا ‘ اور یہ آگہی بھی کسی کسی کو نصیب ہو تی ہے ہر کوئ اس تک نہیں پہنچ سکتا اس کے لیے بڑے کشٹ اٹھا نے پڑتے ہیں’ انگلیاں فگار ہو جا تی ہیں ‘ پاوں میں چھا لے پڑ جا تے ہیں ‘ کمر میں خم آجا تا ہے’ گردن جھک جا یا کر تی ہے تب کہیں جا کر کچھ حا صل ہو تا ہے جو ابدی زندگی کا سرما یہ ہوتا ہے اور وہی حا صل ہوتا ہے اور اسی سے آگہی کے در وا ہو تے ہیں اور اسی میں فائدہ پنہاں ہے اور یہی حکا یت ہے جو دیر پا قائم رہتی ہے اور اسی میں دلوں کا سکون ہے ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*